Kal Ki Baat Ko Kal Per Chhoro

Poet: Muhammad Nawaz By: Muhammad Nawaz, sangla hill

Kal Ki Baat Ko Kal Per Chhoro
Aatay Waqt Ko Kiss Ne Dekha?
Mustaqbil Pe Zor Hai Kis Ka?
Kal Aay Ga,Kal Dekhain Gay
Aaj Tu Jee Lain In Lamhon Ko
Jin Lamhon Ki Khatir Hum Ne
Maazi Ko Qurbaan Kia Hai

In Lamhon Ko Jee Ker Dekho
Zakhmon Ko Ab See Ker Dekho
Kaisay Wasl Ke Jaam Bharay Hain
Socho Na Ab,Pee Ker Dekho

Kya Kerna Andesha E Mehshar
Fikr E Farda Ke Kya Maani
Mutaqbil Per Zor Hai Kis Ka
Kal Aai Ga,Kal Dekhain Gay

Chhin Chhin Jharnay,Mast Hawain
Mehki Si Pur Soz Fizaain
Urtay Gaatay Bekal Panchhi
Geet Khushi Ke Mil Ker Gaain
Badal ,Barkha,Khusboo,Titli
In Ghariyon Ko Chhoonay Aain
Hum Na Hon Tu Kaon Sametay?
In Lamhon Ki Shokh Adaain

Charhta Sooraj Jhoomta Aai
Kab Doobay Ga Hum Kya Jaanain?
Shaam Ki Baatain Shaam Ko Hongi
Soch Ki Chadar Hum Kiyoon Taanain?
Fikr E Farda Rehnay Bi Do
Shaam Pari Hai,Raat Pari Hai
Dil Ki Ik Ik Baat Pari Hai
Khwaab Puraanay Sab Keh Daalain
Kal Ki Baat Bi Ab Keh Daalain

Rate it:
Views: 1565
21 Oct, 2010
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL