اس کا سایہ تو میری چھت پر نظر آتا ہے
Poet: ا ے ایس عارف By: ا ے ایس عارف, Mississaugaدل کی کریں باتیں تو منکر نظر آتا ہے
ہر شخص مجھے تو پتھر نظر آتا ہے
اک پل کو بھی دل سے بھلایا نہیں جسکو
وہ میری طلب کا ساگر نظر آتا ہے
رہبر ہو عدو کا تو منزل کی خبر کیا
مجھ کو تو میرا رستہ بنجر نظر آتا ہے
داستانیں لکھی ہیں ہر چہر ے پہ لیکن
ہر چہرا فسوں کا خوگر نظر آتا ہے
تھوڑا سا اندھیر ے کو چھٹ تو جانے دو
یہ سفر تو وسیلہء ظفر نظر آتا ہے
گزری ہوئی یادوں کو میں کیسے بھلا دوں
اس کا سایہ تو میری چھت پر نظر آتا ہے
وہ مڑ کر مجھے اب دیکھتے ہیں یارو
کچھ تو میر ے شعروں میں اثر نظر آتا ہے
دنیا ہے تماشا اور ہر فرد یہاں عارف
چہر ے بدلتا ہوا جوکر نظر آتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






