اس کے جانے کا رہا دل کو ملال بہت
Poet: syed waqas kashi By: syed waqas kashi, rawalpindiاس کے جانے کا رہا دل کو ملال بہت
رو رو آنکھوں نے کیا اپنا برا حال بہت
اس نے سوچا نہ کبھی میرے بارے میں افسوس
مجھے لحد میں بھی رہا اس کا خیال بہت
لوگوں نے میرے چہرے سے خوش گمانیاں لیں
دل کے اندر تو وگرنہ تھے وبال بہت
جس کی ہر بات پہ ہم سرتسلیم خم ہوئے
کرتا رہا میرے جنوں پہ وہ سوال بہت
اے میرے وطن تیری عزت و عظمت پہ
فدا ہیں دیکھہ ماؤں کے لال بہت
کچھہ اور حسینوں کی آرزو کے لیے کاشی
ہے خزانہ دل اپنا مالامال بہت
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






