اشک ہوں آنکھ سے بے طرح گرا دو مجھ کو
Poet: Yaseen Shahi By: Yaseen Shahi, Islamabadاشک ہوں آنکھ سے بے طرح گرا دو مجھ کو
ہوں اگر عہد محبّت تو نبھا دو مجھ کو
ایک بھر پور سراپا ہوں تری چاہت کا
کوئی موقع تو نہیں ہوں کہ گنوا دو مجھ کو
خون روتی ہوئی صدیوں سے تو بہتر ہے یہی
ایک ہنستا ہوا لمحہ ہی بنا دو مجھ کو
کسی صحرا کی طرح ہاتھ مرے پھیلے ہیں
اپنی زلفوں کی حسیں کالی گھٹا دو مجھ کو
میری قسمت میں نہیں چاند ستارے شاہی
جلتا بجھتا کوئی جگنو ہی دکھا دو مجھ کو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






