اظہار محبت
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, karachi اک بات ہمیشہ تنہائی میں تم سے کہنا چاہی تھی
اک خوف تھا لیکن انجانا
جو مجھ کو روک دیا کرتا
اس خوف کے مارے تم سے
میں وہ بات کبھی کہہ بھی نہ سکا
اس خدشے اس اندیشے نے
ہر بار مجھے مایوس کیا
وہ بات میں اپنے ہونٹوں تک
لایا بھی کبھی تو کہہ نہ سکا
شائد کے میری وہ بات تمہیں
اچھی بھی لگے اور نہ بھی لگے
شائد کے میری اس جرات پر
تم مجھ سے خفا بھی ہوجاؤ
اس اندیشے کے پیش نظر
وہ بات زباں تک آکر بھی
الفاظ کی صورت ڈھل نہ سکی
جذبات مگر دبتے کب تک
یہ زخم سہے جاتے کب تک
جذبات کی بپھری موجوں نے
اس کچے بند کو توڑ دیا
جرات کے دلاسے پر میں نے
اس خوف کا دامن چھوڑ دیا
اور میں نے اپنے ہونٹوں سے
وہ چپ کا بندھن توڑ دیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






