کسی بیوفاء کے نام
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, karachiچلو اچھا ہوا
کہ آج تم نے خود ہی کہہ ڈالا
وگرنہ ہم نہ جانے کب تلک دھوکے میں ہی رہتے
تمہارے سائے کے پیچھے سدا یونہی لگے رہتے
وہ ساری چاہتیں، وہ پیارکی باتیں
ملاقاتیں بھی جھوٹی تھیں
وہ سارے خواب جھوٹے تھے
جو ہم نے جاگتی آنکھوں سے مل کر ساتھ دیکھے تھے
ہمیشہ ساتھ جینے کی، ہمیشہ ساتھ مرنے کی
جو قسمیں ہم نے کھائیں تھیں
جو بندھن ہم نے باندھے تھے
وہ سب قسمیں بھی جھوٹی تھیں
وہ سب بندھن بھی کچے تھے
چلو اچھا ہوا
کہ یہ بھی تم نے خود ہی کہہ ڈالا
وگرنہ ہم تو شاید عمر بھر شکوہ بھی نہ کرتے
تمہیں تو دل لگی کا کھیل کرنا تھا
سو کر بیٹھے
محبت کا تمہیں بہروپ بھرنا تھا
سو بھر بیٹھے
مگر
یہ تو بتاؤ وہ بچارے عشق کے مارے
کہاں جائیں
جو اس جھوٹی محبت کو حقیقت جان بیٹھے تھے
تمہارے جھوٹے چہرے کو جو سچا جان بیٹھے تھے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






