کسی بیوفاء کے نام

Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, karachi

چلو اچھا ہوا
کہ آج تم نے خود ہی کہہ ڈالا
وگرنہ ہم نہ جانے کب تلک دھوکے میں ہی رہتے
تمہارے سائے کے پیچھے سدا یونہی لگے رہتے
وہ ساری چاہتیں، وہ پیارکی باتیں
ملاقاتیں بھی جھوٹی تھیں
وہ سارے خواب جھوٹے تھے
جو ہم نے جاگتی آنکھوں سے مل کر ساتھ دیکھے تھے
ہمیشہ ساتھ جینے کی، ہمیشہ ساتھ مرنے کی
جو قسمیں ہم نے کھائیں تھیں
جو بندھن ہم نے باندھے تھے
وہ سب قسمیں بھی جھوٹی تھیں
وہ سب بندھن بھی کچے تھے
چلو اچھا ہوا
کہ یہ بھی تم نے خود ہی کہہ ڈالا
وگرنہ ہم تو شاید عمر بھر شکوہ بھی نہ کرتے
تمہیں تو دل لگی کا کھیل کرنا تھا
سو کر بیٹھے
محبت کا تمہیں بہروپ بھرنا تھا
سو بھر بیٹھے
مگر
یہ تو بتاؤ وہ بچارے عشق کے مارے
کہاں جائیں
جو اس جھوٹی محبت کو حقیقت جان بیٹھے تھے
تمہارے جھوٹے چہرے کو جو سچا جان بیٹھے تھے

Rate it:
Views: 1787
14 Dec, 2009
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL