اعترافِ نسبت
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Nizwa, Omanجُستجو ءِ پیار میں کھوےَ ہیں ہم
تمنا ءِ یار سینچے روےَ ہیں ہم
شب بھر سلگتی آگ میں جلتے ہیں
دیوانگی میں ایسے اُن سے منسوب ہوےَ ہیں ہم
عشق میں حصولِ یار حسرت سا لگنے لگا
کشمکش ایسی کبھی مایوس تو کبھی پُر اُمید
سلسلہ یہ ایسا کہ سمجھ سے قاصر ہوا پڑا
وصلِ یار میں ایسے دنیا سے بیگانے ہوےَ ہیں ہم
اک ناطہ بناےَ ہیں وہ بے خبر اس حقیقت سے
ملن کی آس میں رہنا اُنکی جھلک کو ترسنا
میرے ہونے نا ہونے سے بے پروا میرا محبوب
پیامِ محبت ہاتھ میں تھامے پھر بھی کھڑے ہوےَ ہیں ہم
کبھی جو ا جاےَ کسی بہانے سے ہمارے دیس
حجر کی سوغات اُنکے آ جانے سے تھم جاےَ
ہم سے گفتگو ہو ایسی اپنی قسمت کہاں
اُن کے آنے کی خواہش میں سانسوں سے ربط جوڑے ہوےَ ہیں ہم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






