اعجاز بے خودی کہ صاحب اِسرار جلتے ہیں
Poet: zaigham jaffery By: zaighm jaffery, Daskaاعجاز بے خودی کہ صاحب اِسرار جلتے ہیں
کنارئ دہن سے اب گُل و گُلزار جلتے ہیں
تمہارے گیسوئے عنبر فشاں سے رات جلتی ہے
ہمارے فکرِ غم سے صاحبِ افکار جلتے ہیں
تمہارا نام لینے سے بہاریں جھوم اُٹھتی ہیں
محبت کے مگر دُشمن سنو ہربار جلتے ہیں
تمہارے عشق میں اب لڑکھڑانا اچھا لگتا ہے
ہماری مستی ئ الفت سے بادہ خوار جلتے ہیں
سُنا ہے اہلِ دانش کی طبیعت لڑکھڑائی ہے
مرے الفاظ سے اُن کے در و دیوار جلتے ہیں
حقیقت ہے مرے دلبر پتنگوں کی طرح ہم بھی
ترے دامن کی آتش سے مرے دلدار جلتے ہیں
سرودِ جعفری کا دل نے جب سے عشق پالا ہے
مرے دل سے تصور گفتگو بے کار جلتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






