اُس نے کل رات چراغ اپنا بجھائے رکھا
Poet: zaigham jaffery By: zaighm jaffery, Daskaاُس نے کل رات چراغ اپنا بجھائے رکھا
ہم نے اس دل کو محبت میں جلائے رکھا
یادِ محبوب کو یوں دل سے لگا رکھا ہے
جیسے فرہاد نے سینے سے لگائے رکھا
دیکھ کر عُلوی مناظر نے بڑا شور کیا
رات سی زلفوں میں چاند اس نے سجائے رکھا
جذبہ پیار تھا اسوار مرے شانوں پر
اس نے بھی پیار میں دیوانہ بنائے رکھا
جب مسلسل یہ نظر اس کے نہ چہرے سے ہٹی
اُس نے دانتوں میں ہی آنچل کو دبائے رکھا
دامنِ یار میں لیٹے تو ہوا جانے کیا
ہم بے ہوش تھے اس نے بھی سلائے رکھا
ہم سے کہتے تھے ظلم اور نہیں ڈھائیں گے
اور دیدار کا خنجر بھی چلائے رکھا
جعفری آج وہ غزلوں میں بیاں ہونے دو
زندگی بھر جو غم و درد چھپائے رکھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






