البیلی شام
Poet: Muhammad Faisal By: Muhammad Faisal, Karachiنقش ہے اپنے خانہ ء دل میں وہ البیلی شام
جیون کی جب ساری گھڑیاں کی تھیں اُن کے نام
ایک سے بڑھ کر ایک حسیں ہے دنیا میں گلفام
لیکن یاروں ہم کو اپنے من موہن سے کام
نام جہاں میں دل والوں کا اس کارن بدنام
اُن کو دکھ میں راحت ہے اور وحشت میں آرام
جب تک عشق میں کھو بیٹھے نہ اپنا نام مقام
اس رستے میں خود کوسمجھے نا پختہ اور خام
ناصح ہم کو سمجھانے میں خوب ہوئے ناکام
اُن پر اپنا تن من وارا بھول کے سب انجام
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






