الفتوں کے سراب کیسے لگے؟؟
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillرقص کرتے گلاب کیسے لگے؟
بند پلکوں پہ خواب کیسے لگے؟
حشر کی بات ابھی رہنے دو
زندگی کے عذاب کیسے لگے؟
عکس کے ہر سوال سے پہلے
آئینے کے جواب کیسے لگے ؟
عمر بھی کی ریاضتیں دے کر
روح کے انتساب کیسے لگے؟
ہاتھ پہ رنگ حنا کیسا لگا؟
خواہشوں پر شباب کیسے لگے؟
گنہگاروں کے ایک سجدے پر
امڈ آتے ثواب کیسے لگے؟
آنکھ میں چمک سی لاتے منظر
یہ بتا زیر آب کیسے لگے؟
جبر کی ان سیاہ راتوں میں
آس کے ماہتاب کیسے لگے؟
سوچ کے بے کراں مداروں میں
بھٹکتے آفتاب کیسے لگے؟
نفرتوں کی حقیقتیں بھی بجا
الفتوں کے سراب کیسے لگے؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






