پلکیں نہ جھکا تھوڑی سی آنکھوں کی پلا کر
Poet: N A D E E M M U R A D By: N A D E E M M U R A D, UMTATA RSAجذبہ جو نہیں سچا تو پھر عشق نیا کر
جذبہ ہے اگر سچا تو تجدید وفا کر
میں تیرا ہوں کہہ دے مجھے سینے سے لگا کر
مر جاؤں گا مت اپنے سے یوں مجھ کو جدا کر
جو تیرا بھلا چاہے نہ بس اس کا بھلا کر
کرنا ہے تو بس اپنے ہی کرموں کا گِلا کر
پلکیں نہ جھکا تھوڑی سی آنکھوں کی پلا کر
تُو فیض سے مت ہاتھ اُٹھا خوب عطا کر
دل کہتا ہے "ایک اور دفعہ مجھ کو لگا کر
تبدیل ذرا میری بھی تو آب و ہوا کر"
معلوم ہے تیرا بتِ سیمیں ہے ترا بس
یہ سوچ کے گلیوں میں بھی اِترا کے چلا کر
دِکھتی نہیں وہ شوخی ترے چہرے پہ اب کیوں
کیا تجھ کو ملا جان مری مجھ کو بُھلا کر
ہنستا ہوا دیکھو تو نہ سمجھو کہ میں خوش ہوں
زندہ ہوں مگر عشق کے جزبوں کو سُلا کر
ایسا بھی نہیں ہے کہ نہیں کوئی ترے پاس
تنہائی میں تنہائی کی غزلیں نہ کہا کر
کوئی بھی وضاحت نہیں اور ہو بھی تو کیوں دوں
"میں تیرا ہوں " یہ کہتا ہوں نم پلکیں دکھا کر
جاں جانےہی والی تھی تغافل سے کہ سمبھلے
ہنستے ہوئے جو اس نے کہا "سوری" منا کر
گر کرنے ہیں سر تجھ کو نئے کوہ و منازل
جو رستہ ہو پامال اسے چھوڑ دیا کر
دل توڑ دے کوئی تو کوئی اور کوئی اور
گر عشق خطا ہے تو لگا تار خطا کر
گو سودہ ہے یہ دل کا مگر اس میں بھی دھوکا
کچھ اور دیا ہے مجھے کچھ اور دکھا کر
دل میرا لُٹا اور گرفتار بھی میں ہی
قانونِ محبت سے مجھے مستثنٰی کر
کوئی تو ہو جو دکھڑے مرے بانٹنے آئے
یارب مری آواز کو آشفتہ نوا کر
اس مرض محبت نے کہیں کا نہیں چھوڑا
پھر بھی نہیں دل کہتا محبت نہ کیا کر
جنت سے کسی طور نہ کم ہوگی یہ دنیا
حق مانگ مگر پہلے فرائض تو ادا کر
جتنا کہ ہے احساس ندیم اتنے نہیں غم
سو رہنے دو کیا پاؤ گے اوروں کو رلا کر
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا
کسی نے دَرد کو سَڑکوں پہ پھر عُریاں لِکھا ہے
یہ کیسا دَور آیا ہے، یہ کیسا اِمتحاں آیا
کہ ہر سَچ بولنے والے پہ اِک زِنداں لِکھا ہے
نہ ماؤں کی دُعائیں ہیں، نہ بَچّوں کی ہَنسی باقی
فضاؤں نے ہر اِک چہرے پہ اِک طُوفاں لِکھا ہے
کبھی راولاکوٹ رویا، کبھی کوئی نگر رویا
سِتم کی داستاں نے خود کو پھر دہراں لِکھا ہے
یہاں طاقَت کے اِیوانوں میں فیصلے اور ہوتے ہیں
مگر مَحروم لوگوں نے اَلگ فَرمان لِکھا ہے
وہ کہتے ہیں کہ خاموشی ہی اب تَقدیر ہے اَپنی
مگر اہلِ وَفا نے "حَق" کو پھر اِمکاں لِکھا ہے
نہ دَولت سے، نہ قُوَّت سے، نہ تَلواروں کی دھَمکی سے
ضَمیرِ زِندہ نے آزادی کو قُرآں لِکھا ہے
مظہرؔ! وقت گواہی دے گا آنے والی نَسلوں کو
وَفا والوں نے خُون سے آزادی کا ساماں لِکھا ہے






