الفت کے امتحاں
Poet: درخشندہ By: darakhshanda, Blairsdenزود و پشیماں ہوے ہم الفت کے امتحاں میں
زیرِ نظر رہی درخو ا ست اپنی ہم کو سند کہاں ملی
قرطاس بھی انکے سوال و جواب بھی انکے
زورِ قلم سےلکھنے کی ہم کو رخصت کہاں ملی
درسِ الفت میں ہم نے درد کی اک داستاں لکھی
اُس بے ادب کو پڑھنے کی فرصت کہاں ملی
الفت میں قدم جو پھسلے تو گرتے ہی چلے گئے
محبت میں اسکی ہم کو سنبھلنے کی جا کہاں ملی
بے خانماں ہوئے جس کی خاطر وہ بےخبر ہی رہے
ٹوٹی جہاں کمند اپنی ہم کو وہاں امان کہاں ملی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






