اللہ
Poet: farah ejaz By: farah ejaz, Aaronsburgسچ کے سورج سے روشنی کی کرنیں
ظلمت کی اندھیر نگری میں
اجالا بن کر اتریں تو
اندھیرے مٹ جاتے ہیں
امن کی فاختہ کھلے آسماں پر
بے خوف محو پرواز ہوتی ہے
پر یہ جب ہی ہوتا ہے
جب من کے آنگن میں
توحید کا بیج
ایک تناور درخت بن جاتا ہے
جس کی جڑیں
دل کی زمیں پر
میخوں کی طرح گڑی ہوتی ہیں
قناعت اور صبر
وفا اور الفت
ایمان سے جڑے وہ پھل ہیں
جو اس درخت کے خاص میوہ جات ہیں
جن کی لذت و شیرینیں
وہی محسوس کرسکتا ہے
جس کی تمام محبتوں کا محور
ایک ہی ذات اقدس ہوتی ہے
کتنا پیارا نام ہے اس عظیم ہستی کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






