انتظار کے بپھرے ھوئے سائے
Poet: ا ے ایس عارف By: ا ے ایس عارف, Mississaugaدل کی اداسی افق پر چھا گئی
چاند ستاروں کو بھی دھندلا گئی
وہ آسماں نیلگوں کب تھا
نظر نظر اشکوں میں نہلا گئی
بہار کا لطف بھی اجنبی
کلی جو چٹکی تھی کملا گئی
دور بادلوں کا پیراھن
ھؤا جانے کہاں اڑا گئی
انتظار کے بپھرے ھوئے سائے
ہیجانی آس بھی زورآزما گئی
ابھی تو وقت ڈھلا ھی نہیں
عاقبت نیدیں اڑا گئی
ہہ کیا ربط رھا عارف
زندگی ھم پر کھلکھلا گئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






