انجانے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: M.ASGHAR MIRPURI By: M.ASGHAR MIRPURI, BIRMINGHAMانجانے میں کر بیٹھا ہوں تبادلہ دل کا
ابھی تک پوچھا نہیں ہے فیصلہ دل کا
جب گھرا ہوتا ہوں نشیب وفراز میں
کوئی آ کر بڑھا دیتا ہےحوصلہ دل کا
ہر کسی کو اپنا سمجھنے لگتا ہے
میرےلیے یہ بہت بڑا ہےمسلہ دل کا
میرےدل کاصحرا سنسان پڑارہتاہے
ادھر سےگزرتانہیں کوئی قافلہ دل کا
وہ پل بھر میں میرا دل توڑ دیتےہیں
یہ نہیں جانتےکتنانازک ہےمعاملہ دل کا
توں مجھ میں کھوجائے میں تجھ میں
آ ہم دونوں دور کر لیں یہ فاصلہ دل کا
رات بھریہ چین سےسونےنہیں دیتا
چارہ گرکودکھانا پڑےگایہ آبلہ دل کا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






