اندهیری شام
Poet: palak gopalganjvi By: عمران نظیر, گوپال گنج،بہارتری زلفوں کے تلے شام گزارا ہے کوئی
تری صورت کو بغور نہارا ہے کوئی
لیکےتری ہی زلفوں سےمحبت کی خوشبو
اپنے دامن کو محبت سے سنوارا ہے کوئی
ہوبہو آج بهی رہتی ہے تیری صورت
ایسا لگتا ہے پردید نظارہ ہے کوئی
ڈهلتی ڈهلتی ہوئ وہ شام، نکلے جگنو
ویسےنکلےتهےجیسے نکلتا، تاراہے کوئی
ویرانے دل کے، مخزن سے بهری دنیا میں
پاکے تجھ کو یہ لگا تها کہ ہمارا ہے کوئی
آجا آجا کہ اب ہر اک آش لگی ہے تجھ سے
لیکے ہونٹو پے تیرا نام پکارا ہے کوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






