کسی کی یاد کی شمع کئی سالوں سے روشن ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیو یارکمیں سوچوں کے بھنور سے جس گھڑی یارو نکلتی ہوں
جو بیتا دل پہ میرے غزل کی صورت وہ لکھتی ہوں
مجھے دیوانی کا مل گیا تمغہ حسیں کیونکہ
میں رنج و غم میں اکثر شعر کہہ کر ہی بہلتی ہوں
سہرابِ زندگی دل کو میرے سیراب رکھتے ہیں
غزل بن کر تبھی قرطاس پر تنہا تھرکتی ہوں
کسی کی یاد کی شمع کئی سالوں سے روشن ہے
میں اس کی روشنی کو اوڑھ کر اکثر سنورتی ہوں
محبت کیا ہے کیسی ہے نہیں معلوم یہ وشمہ
مگر میں دل کے آنگن میں نجانے کیوں مچلتی ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






