ان بجھی چنگاری
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore pakistanوہ پھول لوٹانے آیا ہوں
جو زیست کی ویراں راہوں میں
تری سانسوں نے مہکائے تھے
سب پھول ہیں خوشبو سے خالی
سب پھول رنگوں کے فریادی
نہ تیرے لبوں پہ کلیاں ہیں
نہ میری نگاہوں میں شوخی
وہ بھولی بسری امیدیں
جو شب کی تنہا ساعتوں میں
ناگاہ بھڑک کر آنکھوں کو
کچھ خواب دکھایا کرتیں تھیں
وہ امیدیں اب خاک ہوئیں
سب بیتی باتیں راکھ ہوئیں
یہ سچ ہے پہلی چاہت سے
ارماں نظر کو موڑ چکے
جن راہوں پہ ہم ساتھ چلے
وہ راہیں کب کی چھوڑ چکے
یہ سچ کہ جدآئ کے لمحے
کچھ ہم پہ گراں نہ گزرے ہیں
پر سوچ رہا ہوں جانے کیوں
ہم آج بھی بکھرے بکھرے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






