کئ دنوں سے غزل کوئ بھی سنائ نہیں

Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore pakistan

کئ دنوں سے غزل کوئ بھی سنائ نہیں
اے دوست! مجھ کوتری یاد بھی تو آئ نہیں

ہے مختصر سا مراسم کا سلسلہ اپنا
ہے فون پر ہی فقط ویسے آشنائ نہیں

یہاں تو لوگ بچھڑتے ہیں عمر بھر کے لیے
اگر نہ بات ہو کچھ روز تو جدائ نہیں

بنا لوں کیسے بھلا اپنا ہمسفر تم کو ؟
تمھارے ساتھ تو اک شام تک منائ نہیں

یقین کرنے کو دل چاہتا تو ہے میرا
کہا جو تم نے تمھاری ہوں میں پرائ نہیں

یہ دوستی ہے محبت اسے نہیں کہتا
کہ میری نیند تو تم نے کبھی چرائ نہیں

مرے خیا لوں میں تم مونا لیزا جیسی ہو
نہ جانے کیا ہو جھلک تو کبھی دکھائ نہیں

یہ اچھے اچھے سے شعروں کے بھیجنا میسج
ہوں دونوں دوست بھی اچھے تو پھر برائ نہیں

میں آج کل بڑا مصروف ہوں کتابوں میں
سمیسٹروں سے تو ملتی کبھی رہائ نہیں

اب پیپروں کے ہی بعد ہوں گی تم سے سب باتیں
وہ ایک بات بھی جو آج تک بتائ نہیں

Rate it:
Views: 543
20 Oct, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL