اور بس

Poet: عبد المنان خان اشرفی جائسی By: Abdul Mannan Khan, Jais amethi up india

دیر رات کوئی آیا اور بس
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس

تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس

روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس

گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس

مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس

ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس

نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس

تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس

میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس

ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس

ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس

Rate it:
Views: 0
22 Aug, 2026
More Love / Romantic Poetry