اور کچھ بڑھ گییٔ ویرانیٔ دل تیرے بعد
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKاور کچھ بڑھ گییٔ ویرانیٔ دل تیرے بعد
میں نے لکھی ہے پھر اِک تازہ غزل تیرے بعد
اس قدر بڑھتی گیٔ شدتِ احساس تو پھر
میں تراشوں گی کیٔ تاج محل تیرے بعد
شہرِ دِل اب کے ہوا بانجھ رُتوں کا مسکن
ایسا مرُجھایا مِرے دِل کا کنول تیرے بعد
تو تو بس تو ہے ، تیرے جیسا کویٔ اور کہاں ؟
مل نہ پاۓ گا کویٔ تیرا بدل تیرے بعد
تجھ سے بچھڑے تو یہ احساس ہوا شدت سے
زندگی اب نہیں پاۓ گی سنبھل تیرے بعد
صرف یہ سوچ کے،کانٹے ہی اُگیں گے اس میں
میں نے بویٔ نہیں خوابوں کی فصل تیرے بعد
زندگی روٹھ گیٔ مجھ سے کچھ ایسے عذرا
ڈھونڈتی مجھ کو پھرے جیسے اجل تیرے بعد
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







