اولاد نے ہی ماں باپ کا ڈھنگ بدل ڈالا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, pakistanنئے زمانے نے رشتوں کا رنگ بدل ڈالا
اولاد نے ہی ماں باپ کا ڈھنگ بدل ڈالا
جو ہاتھ تھام کے چلنا سکھایا کرتے تھے
انہی کے سامنے لہجہ بھی تنگ بدل ڈالا
ادب کی باتیں کتابوں میں رہ گئیں شاید
گھروں میں بچوں نے ہر اک ڈھنگ بدل ڈالا
نہ پوچھ حال کبھی، نہ خیال کوئی رکھا
محبتوں کو بھی جیسے اک جنگ بدل ڈالا
وہ ماں جو رات بھر جاگے تو نیند آ جائے
اسی کے سامنے بیٹے نے رنگ بدل ڈالا
وہ باپ جس نے پسینہ بہا کے گھر رکھا
اسی پہ طعنہ دیا، سارا ڈھنگ بدل ڈالا
"وشمہ" یہ وقت بھی کیا عجب امتحان لایا
اولاد نے ہی رشتوں کا سنگ بدل ڈالا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






