اولاد نے ہی ماں باپ کا ڈھنگ بدل ڈالا

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, pakistan

نئے زمانے نے رشتوں کا رنگ بدل ڈالا
اولاد نے ہی ماں باپ کا ڈھنگ بدل ڈالا

جو ہاتھ تھام کے چلنا سکھایا کرتے تھے
انہی کے سامنے لہجہ بھی تنگ بدل ڈالا

ادب کی باتیں کتابوں میں رہ گئیں شاید
گھروں میں بچوں نے ہر اک ڈھنگ بدل ڈالا

نہ پوچھ حال کبھی، نہ خیال کوئی رکھا
محبتوں کو بھی جیسے اک جنگ بدل ڈالا

وہ ماں جو رات بھر جاگے تو نیند آ جائے
اسی کے سامنے بیٹے نے رنگ بدل ڈالا

وہ باپ جس نے پسینہ بہا کے گھر رکھا
اسی پہ طعنہ دیا، سارا ڈھنگ بدل ڈالا

"وشمہ" یہ وقت بھی کیا عجب امتحان لایا
اولاد نے ہی رشتوں کا سنگ بدل ڈالا

Rate it:
Views: 64
20 Apr, 2026
More Love / Romantic Poetry