اُس دِل نشیں نے
Poet: A.R Ajiz By: A-R Ajiz, Lahoreاُس دل نشیں نے اُس مہہ جبیں نے
میری جان لے لی اُس کی ہنسی نے
نہ ہو سکا تھا جیسا آج ہو گیا ہے ویسا
کیا کام کر دِکھایا اُس کی سادگی نے
نہ پوچھ کیا لطف آیا نظروں نے جب تیر چلایا
دل و جگر گھائل ہی پایا نظروں کی تیرگی نے
نین نشیلے چال شرابی ہونٹ رسیلے گال گلابی
واہ کیا حُسن پایا کوہ کاف کی پری نے
چہرہ تھا روشن ایسے چودھویں کا چاند ہو جیسے
چاند میں اک ہالہ بنایا اُس کی تازگی نے
خواب ہو کسی شاعر کا جیسے میرا محبوب ہے ایسے
میری شاعری کا چمکایا اُس کی عاشقی نے
یہ دل اُس کا دیوانہ ہوا خود سے بیگانہ ہوا
مجھے اپنی لو میں جلایا اس شمع کی عاجزی نے
دل اُس نے ہے نام کیا ہم بھی سب قربان کیا
عاجز کا سب کچھ لُٹایا اُس کی عاشقی نے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






