اُن سے ملتے ہی یہ دل ان کا دیوانہ ہو گیا
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKاُن سے ملتے ہی یہ دل ان کا دیوانہ ہو گیا
یوں شروع اپنی محبت کا فسانہ ہو گیا
چوڑیاں پھر سے مرِی بانہوں میں اب سجنے لگیں
جب سے خوابوں میں تمہارا آنا جانا ہو گیا
میں نے برسوں میں مشقت سے بنایا تھا جسے
تنکا تنکا آج میرا آشیانہ ہو گیا
کس قدر وابستگی تھی دو دلوں کے درمیاں
خیر چھوڑو اب تو یہ قصہ پرانا ہو گیا
ہم تو روٹھے تھے کہ وہ آ کر منایںٔ گے ہمیں
کس قدر دشوار اب ان کو منانا ہو گیا
لوگ ابن الوقت تھے جو ، کام جب ان کو پڑا
اِک ہی پل میں ان کا لہجہ عاجزانہ ہو گیا
ایک مدت تک رہے عذراؔ یونہی ہم بے مکاں
اس زمیں پر اب ہمارا بھی ٹھکانہ ہو گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







