اِس عید پے تو آئو نا
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL , Gujranwalaدیکھو پھر عید آنے والی ہے
ہر سُو خوشی چھانے والی ہے
پل خوشی کا مجھے بھی دکھائو ن
اِس عید پے تو آئو ن
ہر گلی ہر آنگن سجا ہے
مگر میرا دل افسردا ہے
سُونی گلیاں میری سجائو ن
اِس عید پے تو آئو ن
بن ترے کوئی تہوار منایا نہیں
دیکھ لینا آنکھوں میں کاجل لگایا نہیں
اپنے ہاتھوں سے کاجل لگائو ن
اِس عید پے تو آئو ن
تری دید کا تحفہ اِس عید پے چاہیئے
میرے پِیر یہی ترے مرید کو چاہیئے
تحفہ عید پے دے جائو ن
اِس عید پے تو آئو ن
پھر پہلے جیسا سنگار کروں گی
جی بھر کے تیرا دیدار کروں گی
نظروں کی پیاس اب بجھائو ن
اِس عید پے تو آئو ن
فاصلوں کو تُم مٹا دو اِ سبار
تُم میرے ہو سب کو بتا دو اسبار
ہر اِک کو محبت سکھائو ن
اِس عید پے تو آئو ن
نہال دیکھے گا یہ جہان سار
چاند کے سنگ چمکے گا محبت کا ستار
دل کی تال سے تال ملائو ن
اِس عید پے تو آئو ن
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






