اپنے صاحب کو میں پھر آج سلامی کرلوں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیاچشمِ گریاں کی روانی ہے مری آنکھوں میں
کس محبت کی کہانی ہے مری آنکھوں میں
جس پر اترا ہے کئی بار سمندر صاحب
پھر سے وہ شام سہانی ہے مری آنکھوں میں
اپنے صاحب کو میں پھر آج سلامی کرلوں
اس کی اک یاد پرانی ہے مری آنکھوں میں
تیرے ہاتھوں میں ہوں صدیوں کے مسافر پڑھ لے
ایک الجھی سی کہانی ہے مری آنکھوں میں
آج بھی تیری محبت کی امانت ہے سب
جو مرا حسن" ،جوانی مری آنکھوں میں
زورِ طوفان سے پھر ٹوٹ نہ جائے اک دن
یہ جو اشکوں کی روانی ہے مری آنکھوں میں
یہ جو ٹوٹا ہے سمندر کا کنارہ وشمہ
یہ تو چاہت کی نشانی ہے مری آنکھوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






