اکثر میں رو پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: Ayesh khan By: Ayesh Khan, karachiوفا کے نام پہ اکثر میں رو پڑی
تیرے ہر الزام پہ اکثر میں رو پڑی
نہ کر سکا تو یقین جاناں میرا کبھی
اپنے ہر کردار پہ اکثر میں رو پڑی
میں نے کہا تو ہی تو تو نے کہا تو نہیں
تیرے اس انکار پہ اکثر میں رو پڑی
جان کر بھی ساری بات بنا رہا انجان تو
ایسے ہر جزبات پہ اکثر میں رو پڑی
دیکھا اپنے ہاتھوں کو لکیریں خالی خالی تھیں
پڑھ کر اپنی ہی تقدیر پہ اکثر میں رو پڑی
عائش وہ اجنبی کر گیا تھا جو دل میں گھر
دیکھ کے اس کو بارہا اکثر میں رو پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






