دیکھ لوئوں جو تجھ کو صبح صبح
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaدیکھ لوئوں جو تجھ کو صبح صبح
گزرتا ہے دن پھر خوشگوار میر
مسکرہتیں راحتیں ہر سُو نظر آتی ہے
آنکھ کُھلتے ہی ہو جائے جب دیرار تیر
رجناب ہے تُو اور پیار جنت تیرا
وادی۔ بہشت جیسا ہے دیار تیر
مجھے شب کا اندھیرا اچھا نہیں لگتا
رات بھر رہتا ہے مجھے انتظار تیر
کب سورج نکلے اور میں دیکھو اپنے چاند کو
دیکھو پھر دیکھو دیکھتا رہو چہرہ بار بار تیر
دل و دماغ اب کہاں سنتے ہے میری
رہ گیا ہے ان پے بس اب اختیار تیر
نہال چُھپ کے جب دیکھتی ہے وہ حُسن نواب
تو جاتا ہے یہ پاگل دل ہار ہار میر
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






