اک تصویر تمہاری
Poet: مرزا عبدالعلیم بیگ By: مرزا عبدالعلیم بیگ, Pakistanمیری یادوں کے خزانے میں
اک تصویر ہے تمہاری بھی
نہ فریم میں قید، نہ دیوار پہ سجی
بس ایک پرانی ڈائری کے صفحے میں دبی ہوئی
جیسے دل کے اندر کوئی دبی ہوئی بات
نہ سجی سنوری، نہ رنگ بھری
بس سادہ سی، خاموش سی
مگر جانے کیوں
دل کو سب سے عزیز وہی ہے
کبھی کبھار جب وقت تھک جائے
اور تنہائی در کھٹکھٹائے
تو میں وہ صفحہ پلٹتا ہوں
اورتمہارا چہرہ
نہ مسکراتا ہے، نہ خفا ہے
بس ٹھہرا ہوا
جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو
اور وقت لفظوں سے پہلے رک گیا ہو
وہ لمحہ
جب تم مجھ سے دور نہیں تھیں
اور ہم "ہم" تھے
وہ لمحہ، شاید اسی تصویر میں قید ہے
کبھی لگتا ہے
یہ کاغذ نہیں
کسی ان کہے جذبے کی جھلک ہے
جو اب بھی باقی ہے
کہیں میری خاموشی میں
یہ تصویر
کبھی سوال کرتی ہے
کبھی جواب بن جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں نمی
کبھی ہونٹوں پر ایک بےاختیار سا تبسم
میں نے بہت کچھ کھویا ہے عمر بھر
رشتے، خواب، موسم
مگر تم میں جو چھپا تھا
وہ کبھی مکمل نہیں ہوا
اب بس یہی تصویر باقی ہے
اک تصویر تمہاری
اور اس کے گرد لپٹی ہوئی
یادوں کی ایک پرانی روشنی
میرے کچھ قیمتی لمحوں میں
یہ بھی شامل ہے
اک خاموش، جامد تصویر
جس میں وقت
محبت کی طرح تھما ہوا ہے
میری یادوں کے خزانے میں
اک تصویر ہے تمہاری بھی
نہ تمہاری موجودگی کی گواہی
نہ جدائی کی علامت
بس ایک خاموش، چھوٹا سا ثبوت
کہ تم کبھی میرے بہت قریب تھے
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






