اک حشر کا تھا شور شرابا اسے کہنا
Poet: آصف By: Asif Ali, Karachiہے دِل میں وہ موجود ہَمارا اُسے کہنا
واحِد میرے جینے کا سَہارا اُسے کہنا
آواز تھی دِل کی اُسے دَھڑکَن نہ کَہو تم
اک حشر کا تھا شور شرابا اُسے کہنا
جاں میری نِکلنے میں بھی آسانی بنے گی
جو روح نِکالے وہ فَرِشتہ اُسے کہنا
جیون تو سَمندر ہے جو بِپھرا ہے سدا سے
پاکر ملے راحت وہ کِنارہ اسے کہنا
دیکھا رُخِ جاناں تو ہوا میں ہوں توانا
بس واسطے میرے ہی مسیحا اُسے کہنا
جب نین بَہادے جو لہو سارا جگر کا
مت نین کہو درد کا پیالہ اُسے کہنا
جس راہ سے گزرا ہوں جلا ہوں میں ہمیشہ
رستہ نہ کہو آگ کا دریا اسے کہنا
برباد ہوا ہے دل_ مضطر میرا جب سے
دل اس کو نہ کہنا ہاں جوالا اسے کہنا
جو جان کو اپنی کرے تجھ پہ نچھاور
اپنا اُسے ہی کہنا جیالا اُسے کہنا
ہے مشورہ یہ اہل ِقلم کو میرا آصف
جو لفظ سکھا دے تجھے آقا اُسے کہنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






