جس کے اندر ہے سوچ شیطانی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاوہ نہ رکھے امیدِ رحمانی
جس کے اندر ہے سوچ شیطانی
خون سستا ہے مہنگا ہے پانی
پھر بھی دیں گے ضرور قربانی
نام لکھ دو جہادِ اکبر میں
زیست ہو جائے گی یہ لافانی
اک سمندر ہے آنکھ میں لیکن
کتنی ہلچل ہے کتنی طغیانی
پہلے دُکھتا تھا پاس میں رہنا
اب جدائی میں کیسی حیرانی
زندگی کے قریب رہ کر بھی
کیسا شکوہ ہے ، کیسی من مانی
بات کرنی ہے گر محبت کی
چھوڑو وشمہ یہ ساری نادانی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






