اک دلربا ملا تھا لگتا تھا آشنا سا

Poet: Hassan Kayani By: Hassan Kayani, Leeds

اک دلربا ملا تھا لگتا تھا آشنا سا
مخمور سی نگاھیں نام تھا بھلا سا

مسکان تھی یا کلیوں کی لڑی تھی
وہ بنایا گیا تھا اوروں سےجدا سا

انجمن کی جان تھی یانغمے کا ساز تھا
رفاقت تھی اسکی احساس تھا فدا سا

نظر جب وہ آئےھر چیز بھول گیا تھا
لذت سرور سے بھرپور تھا نشہ سا

خلوت میں وہ جمال جلوت میں وہ ادا
مانوس سی وہ زلفیں غنچہ تھا کھلا سا

ندی کا وہ پانی جو عکس دے رھا تھا
تصویر لے رھا تھا جیسے اک آئینہ سا

موجیں جس کو اٹھ اٹھ کے دیکھتی تھیں
پھولوں کی آغوش میں محو پری چہرہ سا

مہندی کی خوشبو ھر طرف بکھر رھی تھی
سرخی تھی لبوں پہ جیسے گلاب تھا کھلا سا

بجلی کی وہ چمک دل پر گر رھی تھی
وہ عالم مدھوشی میں لگتا تھا لجا لجا سا

بادل گھرے ھوئے تھے بارش برس رھی تھی
پرندے گا رھے تھے وہ کوئیلوں کا ھمنوا سا

اس آرزوئے دل پہ کون نہ مر جائے اے خدا
یہ خواب تھا یا حقیقت جنت کا راستہ سا

ھوش آیا تو نیندیں بھی اڑ گئی تھیں حسن
لگ گیا ھو جیسے راتوں کا رتجگا سا

Rate it:
Views: 571
29 Jul, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL