اک سمندر کی طرح اس دل کی حالت کیا ہوئی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیااک سمندر کی طرح اس دل کی حالت کیا ہوئی
اس کی گہرائی سے رغبت اور محبت کیا ہوئی
رہ گئے تنہا ہمارے خواب ہم تنہا ہوئے
ہم سے اس دل کی عمارت میں عبادت کیا ہوئی
تو بھی مجھ سے یک بہ یک نا آشنا سا ہوگیا
اپنے چہرے کی خوشی میری ندامت کیا ہوئی
اک مسیحا کی محبت کر گئی گھائل ہمیں
دل میں چاہت کی ہمارے یہ تمازت کیا ہوئی
موت کے منظر کو ہم نے رکھ دیا قرطاس پر
زندگی کی دوڑ میں تھوڑی بصیرت کیا ہوئی
لٹ گیا دل میں سجا چاہت کا میلا یک بہ یک
اس محبت میں محبت سے شرارت کیا ہوئی
رقص کرنے لگ پڑیں چاروں طرف رسوائیاں
ہم سے دنیا کے دریچوں میں بغاوت کیا ہوئی
عشق کا شعلہ جواں ہوتے ہی دل بھی جل اُٹھا
ہم سے رنج و غم کی دنیا میں تجارت کیا ہوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






