اک شخص کو دیکھا تھا۔
Poet: By: Muhammad Baber Zaman, Sahiwalاک شخص کو دیکھا تھا تاروں کی طرح ہم نے
اک شخص کو چاہا تھا اپنوں کی طرح ہم نے
وہ شخص قیامت تھا، کیا اُس کی کریں باتیں
دن اُس کے لیئے پیدا، اور اُس کی ہی تھی راتیں
کب ملتا کسی سے تھا، ہم سے تھیں ملاقاتیں
رنگ اُسکا شہابی تھا زُلفوں میں تھی مہکاریں
آنکھیں تھیں کہ جادو تھا پلکیں تھیں کہ تلواریں
دشمن بھی اگر دیکھیں سو جان سے دل ہاریں
کچھ تم سے وہ ملتا تھا، باتوں میں شہابت تھی
ہاں تم سا ہی لگتا تھا، شوخی میں شرارت میں
لگتا ہی تمہی سا تھا دستورِ محبت میں
وہ شخص ہمیں اک دن اپنوں کی طرح بھولا
تاروں کی طرح ڈوبا، پھولوں کی طرح ٹوٹا
پھر ہاتھ نہ آیا وہ، ہم نے بہت ڈھونڈا
تم کس لیئے چونکے ہو؟ کب زکر تمہارا ہے؟
کب تم سے تقاضا ہے کب تم سے شکائت ہے؟
اک تازہ حکائیت ہے، سن لو تو عنایئت ہے
اک شخص کو چاہا تھا اپنوں کی طرح ہم نے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






