اک عاشق پرندہ
Poet: Eisha-Tul-Razia(مسافر) By: Eisha-Tul-Razia, GUJRATمیں اک عاشق پرندہ ہوں کبھی تو اڑ ہی جاؤں گا
خود کو دنیا کی نظروں سے کہیں دور لے جاؤں گا
فقیری میں میرے مالک میں ایسے ڈوب جاؤں گا
درد ہزاروں بھی ہوں مجھکومیں تبّھی مسکراؤں گا
کبھی ویرانیاں دل کی یونہی بڑھنے لگیں گر تو
شدتِ عشق سے ھُو میں _ بس مجذوب ہو جاؤں گا
کبھی جو وقت کے ہاتھوں زمین پر پتخ دیا جاؤں
فقط تیرے ہی آگے تب بھی میں سر جھکاوں گا
بھلے محروم رہوں تا عمر ،جہاں کی ہر آسائش سے
یہ دامن میں صدا پھر بھی ، تیرے در پر پھیلاوں گا
بخدا اک مسافر ہوں ، یہاں بھیجا گیا ہوں میں
میں آدم زاد ہوں پر اجداد کی غلطی نہ دہراؤں گا
میں مسافر، سفر میرا فقط خود سے خدا تک ہے
بھلے دشوار ہو.... لیکن ، میں رستے خود بناؤں گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






