اک لڑکی بڑی دیوانی ھے
Poet: M. Habibullah Rajput By: Prof. Dr. M. Habibullah, UKاک لڑکی بڑی دیوانی ھے
چنری جسکی دھانی ھے
غزال سی مستانی ھے
آنکھوں میں کیسی حیرانی ھے
ایک بات اسے بتانی ھے
اس سنگ پریت لگانی ھے
کیا الہڑ تیری جوانی ھے
اور پیار سے تو بیگا نی ھے
راہ پیار کی انجانی ھے
پر جوانی پھر نہیں آنی ھے
بس پیار کی سیج سجانی ھے
اب دل میں ھم نے ٹھانی ھے
پھر دنیا کو آگ لگانی ھے
جو اشکوں سے بجھانی ھے
یہ ریت بڑی پرانی ھے
بس یہی پیار کی کھانی ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






