اک پھول میرے پاس تھا، مرجھا گیا ہے اب
Poet: AzharM By: AzharM, Dohaاک پھول میرے پاس تھا، مرجھا گیا ہے اب
پر بے قرار زیست، مفر پا گیا ہے اب
آیا ہے اُس گھڑی کہ ضرورت نہیں مجھے
پر اُس کو کیا کہوں وہ اگر آ گیا ہے اب
تھا بے قرار کب سے دل ناتوں مرا
دھڑکوں گا اب نہیں، وہ یہ فرما گیا ہے اب
تنہا سفر ہے دھوپ میں، سایہ کہیں نہیں
کوئی ملے کہے کہ یہ پیڑ آ گیا ہے اب
پہلے تو احتمال ہی تھا، بھول ہو گئی
اُس نے کہی تھی بات جو، دہرا گیا ہے اب
ترک تعلقات کا لہجے میں تھا یقیں
پھر لوٹنا نہیں ہے، وہ ایسا گیا ہے اب
آگے وہ پھر ملے گا، مقدر کی بات ہے
پیچھے تُجھے وہ چھوڑ کہ ٹھکرا گیا ہے اب
اب ڈھونڈ کیا رہے ہو کہ باقی نہیں ہے کچھ
اظہر جو پاس تھا، اُسے غم کھا گیا ہے اب
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






