اک چھوٹی سی پریم کہانی ۔۔۔پہلی قسط
Poet: m.asghar mir By: m.asghar mirpuri, birminghamاک چھوٹی سےپریم کہانی ہے
جو سن لوتو مہربانی ہے
میرےپڑوس میں اک لڑکی رہتی تھی
جو مجھےبےحد چاہتی تھی
ہم ایک کلاس میں پڑھتےتھے
بات بات پہ دونوں لڑتے تھے
ان دنوں ہم بچے تھے
عمر کے بھی ذراکچےتھے
اظہار کرنےسلیقہ نہ تھا
پیار جتانے کاطریقہ نہ تھا
ہمت کرکےخط اس کی
سہیلی کے ہاتھ بھیجا
ایک گلاب کا پھول ساتھ بھیجا
لکھا!جان من میں تم پہ مرتاہوں
زندگی سےزیادہ تجھےپیارکرتا ہوں
تو خوابوں میں ہےخیالوں میں ہے
اندھیروں میں ہےاجالوں میں ہے
توزمینوں میں ہےآسمانوں میں ہے
دل کے نہاں خانوں میں ہے
اس سےمزید کچھ کہہ نہی سکتا
تیرے بن زندہ رہ نہیں سکتا
تجھےصرف اتنا ہی کہنا ہے
اب تجھےپاکرہی دم لینا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






