اک ہمنشیں ملا تھا کبھی یاد ہے مجھے
Poet: Gulzareen Pasha Zareen By: Gulzareen Pasha Zareen, Kallar Syedanاک ہمنشیں ملا تھا کبھی یاد ہے مجھے
یہ جہاں بدل گیا تھا کبھی یاد ہے مجھے
دیکھا تھا اس نے جس دم پلکیں اٹھا کے مجھکو
میرا دل تڑپ اٹھا تھا کبھی یاد ہے مجھے
آنکھیں تھیں اس کی جیسے مے کے بھرے پیالے
میں نظر سے پی گیا تھا کبھی یاد ہے مجھے
وہ پھول کا سا چہرہ میرے دل میں بس گیا ہے
تبسم سے جو کھلا تھا کبھی یاد ہے مجھے
ہر شہر ہر دیار میں اسے ڈھونڈتا ہے زریں
جو مل کے بچھڑ گیا تھا کبھی یاد ہے مجھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






