لگانا دل نہ غیروں سے تڑپتا چھوڑ جاتے ہیں
Poet: Gulzareen Pasha Zareen By: Gulzareen Pasha Zareen, Kallar Syedanلگانا دل نہ غیروں سے تڑپتا چھوڑ جاتے ہیں
کھلونا جان کر دل کو پٹخ کر توڑ جاتے ہیں
ملا کر نظروں سے نظریں لگا کر آگ سی دل میں
سمجھ کر دل کو یہ شمع سلگتا چھوڑ جاتے ہیں
کبھی آ کر یہ راتوں میں کبھی باتوں ہی باتوں میں
وہی ٹوٹا ہوا سپنا دکھا کر دوڑ جاتے ہیں
رقیبوں کی خوشی خاطر یہ جائیں انکی محفل میں
دلائیں یاد جب وعدہ تو اکثر توڑ جاتے ہیں
زریں بچنا ذرا ان سے بڑے بے درد ہوتے ہیں
کبھی اپنا بناتے ہیں کبھی منہ موڑ جاتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






