ایسا وہ تیری یاد کا خنجر لگا سکے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاایسا وہ تیری یاد کا خنجر لگا سکے
دل بھی مرے وجود سے باہر نہ پا سکے
چمکا تمہاری یاد سے جب دل کا آئینہ
ہر راستہ ہی پیار کا منظر سجا سکے
اک شخص میری آنکھ میں ٹھہرا رہا مگر
دیکھا جو آج غور سے ساحر سما سکے
یہ زندگی اٹھا کے اڑوں آسمان تک
ہمت کی داستان کے کچھ تو سنا سکے
سوچا تھا میں گزار لوں شہرِ زمین پر
دنیا کے ریگزار میں تو یہ بھلا سکے
دنیا کے سارے رشتے ، رواجوں کو توڑ کر
وشمہ تمہاری ذات ہی یہ گھر بنا سکے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






