عشق پر ہجر کا کیسا گماں نہیں کوئی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاعشق پر ہجر کا کیسا گماں نہیں کوئی
یہ جو تیری آنکھوں میں رازداں نہیں کوئی
میرے دل کی خاطر تو یہ فسانۂ ہستی
زخم بے رفو سا ہے درد جاں نہیں کوئی
جب سے مجھ کو حاصل ہے تیرے قرب کی دولت
دل بھی بحر الفت میں اب گماں نہیں کوئی
شور حشر برپا ہے یا کہ شور تنہائی
ہیں بجھی بجھی آنکھیں داستاں نہیں کوئی
مجھ کو مل ہی جائے گی اک نہ ایک دن منزل
بس اسی توقع پر دل آستاں نہیں کوئی
کون ہے جو رکھتا ہے دوست اس قدر مجھ کو
اجنبی سی دنیا میں آشیاں نہیں کوئی
اے وشمہ نہ چھوڑے گا وہ مجھے دعا دینا
"دھوپ ہے قیامت کی، سائباں نہیں کوئی"
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






