ایسا کوئی لمحہ ہوتا جس میں تنہا ہوتے ہم
Poet: عامر ثقلین By: عامر ثقلین , Arifwalaایسا کوئی لمحہ ہوتا جس میں تنہا ہوتے ہم
چپکے چپکے کرتے باتیں یوں نہ رسوا ہوتے ہم
پورا ہر اک سپنا ہوتا دنیا میں اک اپنا بھی
ہر جا جاتے ہر جا ملتے طوطا مینا ہوتے ہم
تب سے اب تک یاد آئے ہم کو ہر دم کتنی بار
یاد اتنا رب کو کرتے سب سے اولیٰ ہوتے ہم
دن سے شب تک کہتے مجھ کو تیری یادوں کے سوا
چاند سورج اور ستارے دنیا میں نہ ہوتے ہم
دید تیری ہوتی ہر دم پھر نہ یادوں میں تری
برکھا بن کر برسے ہوتے دریا دریا ہوتے ہم
بہتے اشکوں کے کنارے مجھ سے مل کر قیس نے
ہے بتایا اس سے بہتر تھا کہ تنہا ہوتے ہم
تم سا عامر ملتا کوئی اس جہاں میں گر کبھی
بن کہ چاہت اس جہاں میں ہر سُو پیدا ہوتے ہم
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






