کہہ دو یہ ان کی زلفوں سے اب مجھ کو کوئی الزام نہ دے
Poet: عامر ثقلین By: عامر ثقلین , Arifwalaکہہ دو یہ ان کی زلفوں سے اب مجھ کو کوئی الزام نہ دے
جو شام ملی تھی ملنے کو اس جیسی کوئی اور شام نہ دے
تُو مجھ کو تنہا رہنے دے جو کچھ کہنا ہے کہنے دے
خاموش تُو مجھ کو رہنے کا اب اور زیادہ کام نہ دے
معصوم سی اپنی باتوں سے ان سنگ گزاری راتوں سے
کہہ دینا اپنی یادوں کا اب اور کوئی انعام نہ دے
لے جائے جو میخانے میں انھیرے سے تہ خانے میں
کیا کرنا ایسے ساقی کا جو دید تو دے پر جام نہ دے
سر کاٹ کے اس کا جلا ڈالو پھر خاک میں اس کو ملا ڈالو
ہر ایسے ویسے ملّا کا جو درد تو دے اسلام نہ دے
تُو جب بھی ملنے آئے گا دیکھ اس جانب مسکائے گا
ہر بزم سجی دل کی ہو گی گو عامر کو پیغام نہ دے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






