ایمان کتنا ، شِکستہ ہوگیا ہے
Poet: اخلاق احمد خان By: Akhlaq Ahmed Khan, Karachiایمان کتنا ، شِکستہ ہوگیا ہے
گناہ پھر ، دانستہ ہوگیا ہے
جن مُنکرات کا باغی تھا کبھی دل
اُنہیں کا رَفتہ ، رَفتہ ہو گیا ہے
چلنا پُرلطف و سہل تھا جس پر
کٹھن کتنا وہ ، رَستہ ہو گیا ہے
چلو چل کر پڑھتے ہیں نماز کہ
اِسے پڑھے بھی ، ہفتہ ہو گیا ہے
بہہ کر بھی رنگ نہیں لاتا اب تو
لہو مسلماں کا کتنا ، سستا ہوگیا ہے
اخلاق وہ کفر کا تھرتھرانا لرزنا
چھوڑو یہ قصہ ، گزشتہ ہوگیا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






