تم کبھی تو آیا کرو
Poet: Shahzad Rahi By: wajahat saif, Rajan purکچھ تو رحم دیکھایا کرو , تم کبھی تو آیا کرو
اپنی حرکتوں سے ستایا کرو , تو کبھی تو آیا کرو
بے چین دل کو چین کہاں رہتا ہے تم بن
اسے اتنا نہ تڑپایا کرو , تم کبھی تو آیا کرو
اداس انکھیں بےصبری سےانتظار کرتی ہیں تیرا
اپنا دیدار کرایا کرو , تم کبھی تو آیا کرو
جلتی خوشیاں , اداس بانہیں , بےرونق زندگی
تھوڑا رحم دیکھایا کرو , تم کبھی تو آیا کرو
روٹھا ہوں خود سے اور لاپتہ بھی ہوں میں
مجھے خود سے ملایا کرو , تم کبھی تو آیا کرو
پہلو میں بیٹھا کرو ہاتھ سے ہاتھ ملا کر
ہلکا سا مسکرایا کرو , تم کبھی تو آیا کرو
جان آتی ہے بےجان جسم میں تیرے ہونے سے
مجھے گلے لگایا کرو , تم کبھی تو آیا کرو
یہ جھکی نگاہیں سوال بھی ہیں جواب بھی ہیں
انہیں نہ رولایا کرو , تم کبھی تو ایا کرو
دنیا کی بھیڑ میں کھو کر خدا کیلئے #راہی
ہمیں نہ بھلایا کرو , تم کبھی تو آیا کرو
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






