تم کبھی تو آیا کرو

Poet: Shahzad Rahi By: wajahat saif, Rajan pur

کچھ تو رحم دیکھایا کرو , تم کبھی تو آیا کرو
اپنی حرکتوں سے ستایا کرو , تو کبھی تو آیا کرو

بے چین دل کو چین کہاں رہتا ہے تم بن
اسے اتنا نہ تڑپایا کرو , تم کبھی تو آیا کرو

اداس انکھیں بےصبری سےانتظار کرتی ہیں تیرا
اپنا دیدار کرایا کرو , تم کبھی تو آیا کرو

جلتی خوشیاں , اداس بانہیں , بےرونق زندگی
تھوڑا رحم دیکھایا کرو , تم کبھی تو آیا کرو

روٹھا ہوں خود سے اور لاپتہ بھی ہوں میں
مجھے خود سے ملایا کرو , تم کبھی تو آیا کرو

پہلو میں بیٹھا کرو ہاتھ سے ہاتھ ملا کر
ہلکا سا مسکرایا کرو , تم کبھی تو آیا کرو

جان آتی ہے بےجان جسم میں تیرے ہونے سے
مجھے گلے لگایا کرو , تم کبھی تو آیا کرو

یہ جھکی نگاہیں سوال بھی ہیں جواب بھی ہیں
انہیں نہ رولایا کرو , تم کبھی تو ایا کرو

دنیا کی بھیڑ میں کھو کر خدا کیلئے #راہی
ہمیں نہ بھلایا کرو , تم کبھی تو آیا کرو

Rate it:
Views: 571
10 Mar, 2020
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL