ایک خواب
Poet: Jan Alam Swat By: Jan Alam Swat, Karachiدُور آسمان پرکوئی رستہ نظر آئے مجھے
کوئی نازنین اُس جہاں میں بلائے مجھے
جہاں بستیاں فقط دل والوں کی ہو ں
جو نفرت نہ جانے اور پیار سکھائے مجھے
ٹوٹا سااک مکان اس بستی میں میسر ہو
میری طرح اک رُوح پرور بھی مل جائے مجھے
دن خوشیوں بھرا رات صدیوں پر ہو محیط
دن کو بہلاکر رات کوبانہوں میںسلائے مجھے
نہ فکر معاش ہو نہ خوفِ جزا و سزا
شراب حلال ہو اور اپنے ہاتھوں سے پلائے مجھے
نہ مستقبل کا خیال ہو نہ بیماریوں کا ہو یلغار
میں اُس پر مر مٹوں اور وہ بس چاہے مجھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






