ایک رات کی کہانی
Poet: Fehmida Riaz By: Shazia Hafeez, Attockایک رات کی کہانی
بڑی سہانی سی رات تھی وہ
ہوا میں انجانی کھوئی کھوئی مہک رچی تھی
بہار کی خوشگور حدت سے رات گلنار ہو رہی تھی
روپہلے سپنے سے، آسمان پر سحاب بنکر بکھر گئے تھے
اور ایسی اک رات
ایک آنگن میں کوئی لڑکی کھڑی ہوئی تھی
خموش۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تنہا
وہ اپنی نازک حسیں سوچوں کے شہر میں کھو کے رہ گئی تھی
دھنک کے سب رنگ اس کی آنکھوں میں بھر گئے تھے
وہ ایسی ہی رات تھی کہ راہوں میں اس کی، موتی بکھر گئے تھے
ہزار اچھوتے، کنوارے سپنے
نظر میں اس کی چمک رہے تھے
شریر سی رات اس کو چپکے سے وہ کہانی سنا رہی تھی
کہ آج
وہ اپنی چوڑیوں کی کھنک سے شرمائی جا رہی تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






