ایک سوال
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Karachiتم اگر میرے نہیں ہو تو جتاتے کیوں ہو
پیار جھوٹا یہ زمانے کو دکھاتے کیوں ہو
خون ہی تم کو بہانا ہے تو کاٹو سر کو
زخم دل پر اے مرے یار لگاتے کیوں ہو
اس سے بہتر ہے کہ دنیا سے مٹا دو مجھکو
نام لکھ لکھ کے ہتھیلی پہ مٹاتے کیوں ہو
ذکر آتا ہے وفاؤں کا اگر محفل میں
یہ بتاؤ کہ مرا نام چھپاتے کیوں ہو
دیکھتے ہی مجھے نظروں کو چرانے والے
میری تصویر کو سینے سے لگاتے کیوں ہو
میرے آنے پہ ہے محفل میں تماشہ کیسا
میں چلی جاؤں گی کہرام مچاتے کیوں ہو
تم کو سچّائی کا گر خوف نہیں ہے صاحب
پھر یوں آواز کو وشمہ کی دباتےکیوں ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






